علمائے کرام اور تجارت: انفعالیت سے اثبات کی جانب ایک فکری ندائے احتجاج
اس تیز رفتار، مادّہ پرست اور خود غرض دنیا میں محض زبانی وعظ و تلقین، خانقاہی خلوت اور منبر و محراب سے وابستہ ہونا اب کافی نہیں رہا۔ عالمِ دین اگر صرف تدریسِ محض اور مواعظِ خشک کا اسیر رہے، اور معاشی میدان کو محض دنیا پرستی سے تعبیر کرتا رہے، تو یہ نہ صرف فکری افلاس بلکہ امت کی اجتماعی بے بصیرتی کا استعارہ بن جائے گا۔ دین کی خدمت یقیناً ایک مقدس مشن ہے، لیکن جب تک یہ خود کفالت، عملیت اور استقلال سے مزین نہ ہو، تب تک اس کے ثمرات محدود اور اثرات نیم جان رہتے ہیں۔
مالی خودمختاری: فکری حریت کا لازمی پیش خیمہ
وہ عالم جو اپنی معیشت کا خود متولی نہ ہو، وہ کبھی بھی فکری آزادی کا علمبردار نہیں بن سکتا۔ ایسے علما محض مصلحتوں کے اسیر اور اہلِ زر کے ترش رو اشاروں پر سر جھکانے والے خطیب بن کر رہ جاتے ہیں۔ وہ زبان، جو کلمۂ حق بلند کرنے کے لیے تھی، چند سکوں، عطیات، اور تنخواہوں کی زنجیروں میں جکڑ دی جاتی ہے۔ خود کفالت عالم کو نہ صرف خودمختار بناتی ہے بلکہ اسے اس جرأتِ اظہار سے بھی مالا مال کرتی ہے جس کے بغیر دین کی نمائندگی محض رسمی نوحہ گری بن کر رہ جاتی ہے۔
عملیت کا پیغام: درسگاہ سے بازار تک
جب ایک فاضل دین دار شخص کاروبار کرتا ہے، تو وہ خاموشی سے اس بات کا عملی مظاہرہ کرتا ہے کہ اسلام فقط مسلکی مجادلے اور عبادتی رسمیات کا مجموعہ نہیں، بلکہ یہ ایک ہمہ جہت ضابطۂ حیات ہے۔ اس کی تجارت دیانت، ایفاءِ عہد، صداقت، اور عدل کا عملی استغراق ہوتی ہے۔ ایسا عالم خود تبلیغ بن جاتا ہے، اس کی حرکات، اس کا لین دین، اس کا طرزِ معیشت، سب دعوت بن جاتے ہیں۔ یوں وہ بازار کے شور میں بھی مسجد کے سکوت کا وقار برقرار رکھتا ہے۔
درسگاہی بے حسی اور تربیتی قحط
جو اساتذہ معاشی عمل سے کٹ کر فقط متون کی گردان میں مگن رہتے ہیں، وہ اپنے تلامذہ کے ساتھ خیانت کرتے ہیں۔ وہ ان کے اذہان میں دنیا کو فریب، کاروبار کو حقارت، اور دنیاوی فہم کو گناہ بنا کر راسخ کر دیتے ہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ مدارس سے ایسے فارغ التحصیل طلبہ نکلتے ہیں جو بظاہر دین دار، مگر عملاً معاشرتی معذور ہوتے ہیں؛ نہ ان میں میدانِ عمل کا حوصلہ ہوتا ہے، نہ شکست سہنے کا ظرف۔
اس کے برعکس وہ استاد جو خود بازارِ حیات کا شہسوار ہو، وہ اپنے شاگردوں کو محض فقہی اصطلاحات نہیں سکھاتا، بلکہ زندگی کے اتار چڑھاؤ سے لڑنے کا حوصلہ بھی عطا کرتا ہے۔ وہ اپنے وجود سے یہ پیغام دیتا ہے کہ عالم محض کتب کا محافظ نہیں بلکہ قوم کا قائد، اور وقت کی نبض پر ہاتھ رکھنے والا مفکر ہے۔
کاروبار سے فرار: شکست خوردہ ذہنوں کی نفسیاتی گتھیاں
جب کسی طالب علمِ دین کو رزقِ حلال کے لیے کاروبار کی دعوت دی جاتی ہے، تو اکثر جواب آتا ہے: "اگر نقصان ہو گیا تو؟"۔ یہ سوال دراصل شکست خوردگی، خوف زدگی اور ذہنی بانجھ پن کا اظہاریہ ہے۔ ایسی سوچ دین کے مجاہد کی نہیں، بلکہ محرومیوں میں پناہ لینے والے نادان طالب کی علامت ہے۔
کاروبار سیکھنے کا عمل بھی ٹھوکروں، خطاؤں اور تجربات کے تند و تیز تھپیڑوں سے گزرتا ہے۔ لیکن یہی تلخیاں انسان کو زندگی کی اصل معنویت سے روشناس کراتی ہیں۔ نفع و نقصان کا کھیل ان لوگوں کے لیے ہوتا ہے جو میدان میں اُترنے کی جرأت رکھتے ہیں، نہ کہ اُن کے لیے جو مسجد کے حجرے میں بیٹھ کر "اگر" اور "مگر" کی تھیوریاں بُننے میں عمر گزار دیتے ہیں۔
فکری قحط اور غیر فطری ترجیحات
آج کا المیہ یہ ہے کہ مدارس کے ہزاروں فضلاء کے پاس نہ کوئی فن ہے، نہ ہنر، نہ بازار کی سوجھ بوجھ، اور نہ ہی کوئی معاشی منصوبہ۔ زبان پر محض ایک جملہ ہوتا ہے: "امامت چاہیے، یا کوئی خادمیت کی جگہ ہو"۔ گویا یہ فضیلتِ علم کا انجام فقط چند ہزار کی تنخواہ پر "بندگیِ مسجد" ہے۔ یہ مزاج فقط افراد نہیں، بلکہ پورے دینی طبقے کو سماجی یتیمی کے کنارے کھڑا کر چکا ہے۔
اگر امامت کا در وا نہ ہو تو چائے کی ریڑھی، کتابوں کی دکان، یا یہاں تک کہ ایک سادہ ٹھیلہ — کچھ بھی ہو، مگر باعزت ہو، حلال ہو، خود کمایا ہوا ہو۔ اس سے نہ صرف عزتِ نفس بحال ہوتی ہے بلکہ دین کا تشخص بھی معاشرے میں سربلند ہوتا ہے۔
میرے مشاہدات: عزت کی جیتی جاگتی مثالیں
میں نے ایسے اساتذہ دیکھے ہیں جو تدریس، امامت، خطابت، اور درس و تدریس کے ساتھ اپنے ذاتی کاروبار میں بھی مصروف ہیں۔ وہ نہ کسی کی امداد کے طلبگار ہیں، نہ چندے کے دسترخوان کے مہمان، نہ مسلکی اداروں کے باندی۔ ان کی زبان میں جرأت، نگاہ میں وسعت، اور لہجے میں غیرت جھلکتی ہے — کیونکہ کاروبار بولتا ہے، اور پیسہ اثر کرتا ہے۔
مولویوں کے بچے: سماجی تحقیر کا الم ناک استعارہ
لیکن جب نگاہ ان علمائے کرام کے بچوں پر پڑتی ہے جن کے والد فقط امامت یا تدریسِ محض پر انحصار کرتے ہیں، تو دل خون کے آنسو روتا ہے۔ وہ بچے جو کل کے راہنما بن سکتے تھے، آج لوگوں کی ترس بھری نظروں کا شکار ہیں۔ ان کے جسم پر بوسیدہ لباس، ہاتھوں میں سوال، اور دلوں میں محرومیوں کا سیاہ بوجھ ہوتا ہے۔
کیا یہ دین کی ترجمانی ہے؟ کہ باپ منبر پر "قناعت" کے وعظ دے اور بچہ گلیوں میں اپنی محرومی چھپاتا پھرے؟ یہ مظلومیت نہیں بلکہ بے بصیرتی اور مجرمانہ غفلت کی پیداوار ہے۔
نتیجہ: دین و دنیا کا تکمیلی امتزاج
ضرورت اس امر کی ہے کہ علمائے کرام فقط علمی مفکر نہ ہوں، بلکہ عمل کے مردِ میدان ہوں۔ وہ امت کو نہ صرف قرآن و حدیث پڑھائیں، بلکہ خود ایک زندہ مثال بن کر دکھائیں کہ دین اور دنیا کا امتزاج کیسا ہونا چاہیے۔ ایسا امتزاج جو نہ صرف فرد کو باعزت بنائے، بلکہ ملت کی اجتماعی وقار کو بھی نئی زندگی عطا کرے۔
