پوسٹ ۵: وقت نہیں... یا برکت نہیں؟


 وقت نہیں... یا برکت نہیں؟

نیا سال، نیا آغاز، نئی امیدیں۔ آج سال کا پہلا دن تھا، طلبہ سے خوبصورت ملاقات رہی۔ حسبِ روایت میں نے ان سے چھٹیوں کے بارے میں پوچھا:

"رمضان کی چھٹیاں کیسی گزریں؟ قرآن کس کس نے سنایا؟"

ایک طالب علم نے فخر سے کہا:

"الحمدللہ! میں نے قرآن پاک مکمل سنا دیا۔"

اسی دوران ایک اور نے پوچھا:

"استاذ جی! اس سال آپ کو کون سی کتابیں پڑھانی ہیں؟"

میں نے مسکرا کر جواب دیا:

"الحوارات العربیہ، اسلامیات، اور دو مزید کتابیں جو بعد میں آئیں گی۔"

تبھی ایک بچے نے کہا:

"استاذ جی! اس مرتبہ تو اسباق بہت زیادہ ہیں… اور وقت نہیں ہے!"

میں ہلکا سا مسکرایا اور کہا:

"نہیں بیٹا… وقت ہے، لیکن برکت نہیں!"

وقت میں برکت کیوں نہیں؟

طالب علم فوراً بول اٹھا:

"استاذ جی! برکت کیسے آئے گی وقت میں؟"

میں نے نرمی سے کہا:

"جب انسان خود کو پہچانتا ہے، اپنی قدر کرتا ہے، تب وقت میں برکت آتی ہے۔"

اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے خود کو بھلا دیا ہے۔ ہم اپنی پہچان اور مقام، جو اللہ نے دیا — اشرف المخلوقات — اسے نظرانداز کر چکے ہیں۔

اپنی قدر، وقت کی قدر

جس لمحے انسان اپنی قیمت جان لیتا ہے، وہ اپنی زندگی کے ہر لمحے کو قیمتی بناتا ہے۔ وہ فائدہ مند کاموں کو ترجیح دیتا ہے، فضول مشغولیات سے بچتا ہے، ہر دن کو بامقصد گزارتا ہے۔

کیونکہ جو خود سے محبت کرتا ہے، وہ اپنے وقت کو ضائع نہیں ہونے دیتا۔

اللہ نے انسان کو کیا مقام دیا؟

اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

"میں زمین پر اپنا خلیفہ بنانے والا ہوں۔"

فرشتوں نے سوال کیا:

"یہ فساد کرے گا، خون بہائے گا!"

اللہ نے جواب دیا:

"میں وہ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے!"

یہ الفاظ انسان کی انمول حیثیت کو ظاہر کرتے ہیں۔

سوچنے کی آزادی دو

اگر انسان اپنی پہچان سے غافل ہے، تو اس میں صرف اس کا قصور نہیں، بلکہ اُن لوگوں کا بھی ہے جو اس کی سوچ کو محدود رکھتے ہیں۔

طالب علم کو سوال کرنے دو، سوچنے دو، مقصد سمجھاؤ، اور اس کے دل میں خود کی قدر جگاؤ۔ کیونکہ جو اپنی قدر پہچان لے، وہی وقت کی بھی قدر کرتا ہے — اور تب وقت میں خود بخود برکت آ جاتی ہے۔


آخر میں... صرف ایک سوال:


وقت نہیں ہے؟ یا برکت نہیں ہے؟


فیصلہ… آپ کی سوچ پر ہے۔

ایک تبصرہ شائع کریں

جدید تر اس سے پرانی