ہم دوسروں کو خوش کرنے میں اپنی زندگی کیوں بھول جاتے ہیں؟

ہم دوسروں کو خوش کرنے میں اپنی زندگی کیوں بھول جاتے ہیں؟

لوگ کیا کہیں گے؟ ایک ایسا سوال جو کتنی ہی زندگیاں خاموشی سے قید کیے ہوئے ہے

کبھی آپ نے کوئی کام صرف اس لیے چھوڑ دیا کہ آپ کو ڈر تھا کہ لوگ کیا کہیں گے؟

کبھی اپنی پسند کا لباس صرف اس لیے نہیں پہنا کہ کسی کے تبصرے کا خوف تھا؟
کبھی اپنی بات دل میں دبا لی؟
کبھی کوئی اچھا فیصلہ صرف اس لیے مؤخر کر دیا کہ شاید گھر والے، دوست یا معاشرہ اسے پسند نہ کرے؟

اور کبھی ایسا بھی ہوا کہ آپ نے وہ زندگی گزارنے کی کوشش کی جو آپ چاہتے ہی نہیں تھے، صرف اس لیے کہ دوسرے آپ سے خوش رہیں؟

اگر ایسا ہے تو یقین جانیے، آپ اکیلے نہیں۔
ہم میں سے بہت سے لوگ اپنی زندگی کا ایک بڑا حصہ دوسروں کی رائے کے مطابق گزار دیتے ہیں۔ ہم اپنے فیصلوں سے زیادہ لوگوں کے تبصروں سے ڈرنے لگتے ہیں۔ ہمیں اپنی خوشی سے زیادہ اس بات کی فکر ہونے لگتی ہے کہ ہمارے بارے میں کیا سوچا جائے گا۔
مگر سوال یہ ہے:

کیا واقعی ہماری زندگی کا مقصد ہر شخص کو خوش کرنا ہے؟

یا ہمیں یہ سیکھنا چاہیے کہ دوسروں کا احترام کرتے ہوئے اپنی زندگی کے فیصلے خود بھی کرنا ہیں؟

لوگ کیا کہیں گے؟ ایک غیر محسوس زنجیر

لوگ کیا کہیں گے؟
یہ صرف چار الفاظ ہیں، لیکن کبھی کبھی یہی چار الفاظ انسان کے قدم روک دیتے ہیں۔
ایک نوجوان اپنا پسندیدہ شعبہ اختیار نہیں کرتا۔
ایک لڑکی اپنی صلاحیت کو آگے نہیں بڑھاتی۔
ایک شخص کاروبار شروع کرنے سے گھبراتا ہے۔
کوئی اپنی تحریر شائع نہیں کرتا۔
کوئی اپنی آواز بلند نہیں کرتا۔
اور کوئی اپنی زندگی کا اہم فیصلہ صرف اس خوف سے نہیں کر پاتا کہ کہیں لوگ مذاق نہ اڑائیں۔

حقیقت یہ ہے کہ لوگ ہمیشہ کچھ نہ کچھ کہیں گے۔

آپ کامیاب ہوں گے تو بھی باتیں ہوں گی۔
آپ ناکام ہوں گے تو بھی باتیں ہوں گی۔
آپ خاموش رہیں گے تو بھی سوال ہوں گے۔
آپ بولیں گے تو بھی تنقید ہوگی۔
تو پھر کیوں نہ انسان اپنی زندگی کو ایسی سمت میں لے جائے جس پر اسے اپنے رب، اپنے ضمیر اور اپنی محنت کے سامنے شرمندگی نہ ہو؟
ہر رائے کو اہمیت دینا دانشمندی نہیں
دوسروں کی رائے سننا اچھی بات ہے، لیکن ہر رائے کو اپنی زندگی کا فیصلہ بنا لینا دانشمندی نہیں۔
کچھ لوگ آپ کو آپ کی بھلائی کے لیے مشورہ دیں گے۔
کچھ لوگ اپنے تجربے کی بنیاد پر آپ کی رہنمائی کریں گے۔
اور کچھ لوگ صرف اس لیے تنقید کریں گے کہ آپ ان سے مختلف راستہ اختیار کر رہے ہیں۔
ان تینوں میں فرق سمجھنا ضروری ہے۔
مشورہ لیجیے، مگر فیصلہ سوچ سمجھ کر کیجیے۔
کیونکہ آپ کی زندگی کے نتائج آخرکار آپ ہی کو برداشت کرنے ہوتے ہیں۔

اپنی زندگی، اپنی ذمہ داری

ہم اکثر اپنی ناکامی کا ذمہ دار حالات، معاشرے، خاندان یا دوسروں کو ٹھہراتے ہیں۔

لیکن ایک حقیقت بہت اہم ہے:

زندگی کے بڑے فیصلوں کی ذمہ داری آخرکار ہماری اپنی ہوتی ہے۔

اگر آپ ہمیشہ دوسروں کی مرضی کے مطابق فیصلے کرتے رہے اور بعد میں دل میں افسوس پیدا ہوا تو اس افسوس کا بوجھ بھی آپ ہی کو اٹھانا ہوگا۔

اس لیے ضروری ہے کہ انسان دوسروں کا احترام ضرور کرے، مگر اپنی عقل، صلاحیت، حالات اور مقصد کو بھی سامنے رکھے۔

اپنی خوشی اور خود غرضی میں فرق سمجھیں

یہاں ایک اہم بات سمجھنا ضروری ہے۔

اپنی زندگی کے فیصلے خود کرنا خود غرضی نہیں۔

خود غرضی یہ ہے کہ انسان صرف اپنے فائدے کے لیے دوسروں کے حقوق پامال کرے۔

لیکن اپنی صلاحیت کو پہچاننا، اپنی زندگی کا مقصد تلاش کرنا، اپنی غلطیوں سے سیکھنا اور بہتر مستقبل کے لیے فیصلے کرنا خود غرضی نہیں بلکہ ذمہ داری ہے۔

انسان کو دوسروں کا خیال بھی رکھنا چاہیے اور اپنی ذات کو بھی بالکل نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔

ہر انسان کو خوش کرنا ناممکن ہے

آپ دنیا کے سب سے اچھے انسان بھی بن جائیں، پھر بھی کوئی نہ کوئی آپ سے ناخوش ہوگا۔

آپ جتنا بھی اچھا کام کریں، کوئی نہ کوئی اس میں نقص نکال دے گا۔

آپ جتنا بھی محتاط رہیں، کوئی نہ کوئی آپ کو غلط سمجھے گا۔

یہ انسانی معاشرے کی ایک حقیقت ہے۔

اس لیے زندگی کا مقصد یہ نہیں ہونا چاہیے کہ ہر شخص میرے بارے میں اچھا سوچے۔

بلکہ مقصد یہ ہونا چاہیے:

میں اپنے کردار، نیت اور عمل کو بہتر سے بہتر کیسے بنا سکتا ہوں؟

کب تک دوسروں کی زندگی جئیں گے؟

ذرا ایک لمحے کے لیے خود سے پوچھیں:

اگر مجھے کسی کی تنقید کا خوف نہ ہو تو میں کیا کرنا چاہوں گا؟

اگر مجھے ناکامی کا ڈر نہ ہو تو میں کون سا قدم اٹھاؤں گا؟

اگر مجھے "لوگ کیا کہیں گے" کی فکر نہ ہو تو میری زندگی میں کیا تبدیلی آئے گی؟

ممکن ہے ان سوالوں کے جواب آپ کو اپنے اندر چھپی ہوئی ایک ایسی خواہش سے ملوائیں جسے آپ نے برسوں سے خاموش کر رکھا ہے۔

شاید کوئی کتاب لکھنے کی خواہش ہو۔

شاید کوئی کاروبار شروع کرنا ہو۔

شاید تعلیم دوبارہ شروع کرنی ہو۔

شاید کوئی ہنر سیکھنا ہو۔

یا شاید صرف ایک ایسی زندگی گزارنی ہو جس میں دل مطمئن ہو۔

تنقید سے گھبرائیں نہیں،اس سے سیکھیں

ہر تنقید بری نہیں ہوتی۔

کبھی کبھی تنقید ہمارے اندر کی وہ کمزوری دکھا دیتی ہے جسے ہم خود نہیں دیکھ پاتے۔

لیکن تنقید کو دو حصوں میں تقسیم کرنا سیکھیں:

اصلاح والی تنقید
اور
حوصلہ توڑنے والی تنقید۔

پہلی سے سیکھیں۔

دوسری کو نظر انداز کرنا سیکھیں۔

ہر آواز کو اپنے دل میں جگہ دینا ضروری نہیں۔

اپنی پہچان دوسروں کے ہاتھ میں نہ دیں

سب سے خطرناک بات یہ ہے کہ انسان اپنی شناخت دوسروں کی رائے سے بنانا شروع کر دے۔

لوگ کہیں کہ آپ اچھے ہیں تو آپ خوش۔

لوگ کہیں کہ آپ ناکام ہیں تو آپ مایوس۔

لوگ تعریف کریں تو آپ مطمئن۔

لوگ تنقید کریں تو آپ ٹوٹ جائیں۔

ایسی زندگی انسان کو اندر سے کمزور کر دیتی ہے۔

اپنی قدر کا احساس دوسروں کے الفاظ سے نہیں بلکہ اپنے کردار، اپنی محنت اور اپنی حقیقت سے پیدا کریں۔

زندگی کا ایک خوبصورت اصول

لوگوں کا احترام کیجیے، مگر اپنی زندگی کا اختیار مکمل طور پر ان کے ہاتھ میں نہ دیجیے۔

مشورہ سنیے، مگر سوچ کر۔

تنقید قبول کیجیے، مگر پرکھی ہوئی۔

غلطی تسلیم کیجیے، مگر خود کو ہمیشہ کے لیے ناکام نہ سمجھیں۔

اور سب سے بڑھ کر یہ یاد رکھیے:

آپ کی زندگی ایک امانت ہے۔

اسے صرف اس خوف میں ضائع نہ کریں کہ لوگ آپ کے بارے میں کیا کہیں گے۔

اختتامیہ

زندگی بہت مختصر ہے۔

اتنی مختصر کہ کبھی کبھی انسان کو احساس ہی نہیں ہوتا کہ دوسروں کو خوش کرنے کی کوشش میں اس نے اپنے کتنے سال خاموشی سے گزار دیے۔

لوگ بدلتے رہیں گے۔

ان کی رائے بدلتی رہے گی۔

آج جو شخص آپ کی تعریف کر رہا ہے، ممکن ہے کل تنقید کرے، اور جو آج آپ کو سمجھ نہیں پا رہا، ممکن ہے کل آپ کی کامیابی کو مثال بنا کر پیش کرے۔

اس لیے اپنی زندگی کا مرکز لوگوں کی رائے کو نہ بنائیں۔

اپنے رب کو سامنے رکھیں، اپنی نیت درست رکھیں، اپنی عقل استعمال کریں، اپنے مقصد کو پہچانیں اور اپنے قدم ذمہ داری کے ساتھ اٹھائیں۔

کیونکہ آخر میں سوال یہ نہیں ہوگا کہ:

لوگوں نے میرے بارے میں کیا کہا؟

بلکہ سوال یہ ہوگا کہ:

مجھے جو زندگی، صلاحیت، وقت اور موقع دیا گیا تھا، میں نے اس کے ساتھ کیا کیا؟

اور شاید زندگی کی سب سے بڑی آزادی یہی ہے کہ انسان دوسروں کی آوازوں کے شور سے نکل کر اپنے ضمیر کی آواز سننا سیکھ لے۔

لوگ باتیں کرتے رہیں گے…

آپ اپنی زندگی جینا سیکھ لیجیے۔

ایک تبصرہ شائع کریں

جدید تر اس سے پرانی